پاکستان میں 2026 کے دوران ایک ہزار سے زائد سائبر حملوں کا انکشاف، نیشنل سرٹ کی مصنوعی ذہانت سے نگرانی میں توسیع

پاکستان میں سال 2026 کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد سائبر حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جس کے بعد ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں کی تفصیلات نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) کے ڈائریکٹر جنرل حیدر عباس نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں پیش کیں۔
اجلاس کے دوران ملک میں سائبر سیکیورٹی کی موجودہ صلاحیتوں پر بریفنگ دیتے ہوئے حیدر عباس نے بتایا کہ نیشنل سرٹ میں اس وقت مجموعی طور پر 70 ملازمین کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے، تاہم زیادہ تر سرگرمیاں اب بھی انسانی ماہرین کی مدد سے انجام دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے تقریباً 30 فیصد امور میں مصنوعی ذہانت استعمال ہوتی ہے، جبکہ باقی 70 فیصد کام روایتی اور دستی طریقوں سے مکمل کیا جاتا ہے۔
کمیٹی کے ارکان نے سائبر سیکیورٹی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ ٹیکنالوجی خود موجودہ سیکیورٹی نظام کے لیے خطرہ تو نہیں بن سکتی۔ ارکان نے اس حوالے سے ادارے کی حفاظتی حکمت عملی اور ممکنہ کمزوریوں کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ جواب میں حیدر عباس نے بتایا کہ پاکستان میں ایک خصوصی سیکیورٹی مانیٹرنگ سینٹر قائم ہے، جس کا مقصد مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی، نئے سائبر خطرات کی نگرانی اور ممکنہ حملوں کے خلاف مؤثر ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
اجلاس میں قومی اہمیت کے حامل دنوں کے موقع پر سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے نشاندہی کی کہ 14 اگست، یومِ آزادی، اور 6 ستمبر، یومِ دفاع، کے قریب ہیکنگ کی کوششوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے دریافت کیا کہ ان مواقع پر سرکاری اداروں اور اہم ڈیجیٹل نظاموں کو محفوظ رکھنے کے لیے کون سے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اداروں میں سائبر سیکیورٹی کے معیارات سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے حیدر عباس نے بتایا کہ پاکستان میں انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک رولز کی منظوری 2023 میں دی گئی تھی۔ ان قواعد کا مقصد مختلف اداروں کی سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور ان کے حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اداروں کے سالانہ سائبر سیکیورٹی آڈٹ کیے جائیں گے تاکہ ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی اور حفاظتی اقدامات کی جانچ کی جا سکے۔ سیکریٹری آئی ٹی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام صوبوں نے سائبر سیکیورٹی سے متعلق ذمہ داریوں کے لیے اپنے متعلقہ محکمے نامزد کر دیے ہیں۔
اجلاس میں ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل نظام کی نگرانی کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ حساس معلومات اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مخصوص ڈیٹا ریگولیٹری ادارے کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ریگولیٹری اداروں کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری معیارات اور ضوابط کی نگرانی کرنا ہے، نہ کہ کسی ادارے کے روزمرہ انتظامی معاملات یا داخلی پالیسی سازی میں براہِ راست مداخلت کرنا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا سے متعلق امور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے جاری کردہ معیارات کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔ یہ اتھارٹی وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت قائم کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی موسیٰ گیلانی نے پاکستانی شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ ڈیٹا پروٹیکشن نظام میں اب بھی کئی کمزوریاں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی حساس معلومات کو غیر مجاز رسائی اور ممکنہ غلط استعمال سے محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ملک کی حدود کے اندر محفوظ رہنا چاہیے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ان تجاویز کو اہم قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان پر غور کیا جائے گا۔
کمیٹی نے پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور چیئرمین نے تقریباً ایک سال قبل کام شروع کرنے والے اس ادارے کی پیش رفت کو سراہا۔ اجلاس میں ڈیجیٹل حکمت عملی کے لیے مجوزہ قومی کمیشن کے قیام پر بھی گفتگو ہوئی، جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے۔ اس کمیشن کا مقصد قومی سطح پر منظور شدہ ڈیجیٹل پالیسیوں کے صوبوں میں مؤثر نفاذ اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں سامنے آنے والی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کو تیزی سے پھیلتے ہوئے ڈیجیٹل نظام کے تحفظ کے لیے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرکاری خدمات، مالیاتی اداروں اور عوامی سہولیات کا انحصار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر بڑھنے کے ساتھ سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی حفاظتی اقدامات، باقاعدہ سیکیورٹی آڈٹس، مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال اور شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مؤثر نگرانی ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


