کڈز اکیڈمی

پریکٹس ٹریڈنگ گیم

آپ کو شیئرز خریدنے اور بیچنے کے لیے فرضی رقم ملتی ہے، اور آپ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے، ایک بھی اصلی روپیہ خطرے میں ڈالے بغیر۔

جلد آ رہا ہے

ہم ایک بروکریج ہاؤس کے ساتھ مل کر یہاں پریکٹس ٹریڈنگ گیم لا رہے ہیں۔ تب تک نیچے دیے گئے پیسے کے بنیادی اسباق سے آغاز کریں۔

پیسے کے بنیادی اسباق

  1. بچت

    بچت کا مطلب ہے آج کچھ پیسے الگ رکھنا تاکہ بعد میں کام آئیں۔ تھوڑی رقم بھی بڑھ جاتی ہے: ہر ہفتے 50 روپے بچائیں تو ایک سال میں 2,600 روپے بن جاتے ہیں۔

  2. ضرورت اور خواہش

    ضرورت وہ چیز ہے جو لازمی ہو، جیسے کھانا، اسکول کی کتابیں یا بس کا کرایہ۔ خواہش وہ چیز ہے جو اچھی لگے، جیسے نئی گیم یا چٹپٹی چیزیں۔ پہلے ضرورتیں پوری کرنا، پھر یہ چننا کہ کون سی خواہش زیادہ اہم ہے، پیسے کی اچھی عادتوں کی شروعات ہے۔

  3. بجٹ بنانا

    بجٹ آپ کے پیسوں کا منصوبہ ہے۔ لکھیں کہ کتنے پیسے آئے، جیسے جیب خرچ یا عیدی، پھر انہیں بانٹیں: کچھ خرچ کے لیے، کچھ بچت کے لیے، اور کچھ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے۔ ہر ہفتے منصوبہ دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ پیسے اصل میں کہاں جاتے ہیں۔

  4. بینک کیا کرتا ہے؟

    بینک آپ کے پیسے محفوظ رکھتا ہے اور ان میں سے کچھ ان لوگوں اور کاروباروں کو ادھار دیتا ہے جنہیں ضرورت ہو۔ اس کے بدلے بچت کھاتہ آپ کو کچھ اضافی رقم دے سکتا ہے جسے منافع یا سود کہتے ہیں۔ پاکستان کے کئی بینک والدین کے ساتھ بچوں کے کھاتے کھولتے ہیں۔

  5. پیسے کمانا

    پیسہ کام کر کے یا ایسی چیز بنا کر کمایا جاتا ہے جو لوگوں کو چاہیے۔ بڑے نوکری سے تنخواہ یا کاروبار سے منافع کماتے ہیں۔ چھوٹے کام بھی، جیسے گھر کی دکان پر ہاتھ بٹانا یا اسکول میں ہاتھ کی بنی چیزیں بیچنا، سکھاتے ہیں کہ محنت آمدنی میں کیسے بدلتی ہے۔

  6. شیئر کیا ہے؟

    ایک کمپنی کو بہت سے چھوٹے حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے جنہیں شیئرز کہتے ہیں۔ ایک شیئر کے مالک ہوں تو آپ اس کمپنی کے ایک چھوٹے سے حصے کے مالک ہیں۔ پاکستان میں بہت سی کمپنیوں کے شیئرز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) پر خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔

  7. قیمتیں کیوں بدلتی ہیں؟

    شیئر کی قیمت اس لیے بدلتی ہے کہ لوگ اسے خرید اور بیچ رہے ہوتے ہیں۔ جب بیچنے والوں سے زیادہ لوگ خریدنا چاہیں تو قیمت عموماً بڑھتی ہے، اور جب زیادہ لوگ بیچنا چاہیں تو عموماً گھٹتی ہے۔ کمپنی کے بارے میں خبریں لوگوں کی سوچ بدل سکتی ہیں۔

  8. خطرہ، اور اسے بانٹنا

    قیمتیں بڑھ بھی سکتی ہیں اور گر بھی سکتی ہیں، اس لیے نقصان بھی ہو سکتا ہے اور فائدہ بھی۔ اسی لیے سرمایہ کار اپنا سارا پیسہ ایک کمپنی میں لگانے کے بجائے مختلف کمپنیوں میں بانٹتے ہیں، تاکہ ایک برا دن کم نقصان دے۔

  9. لمبے عرصے کی سوچ

    کل کی قیمت کا اندازہ لگانا ماہرین کے لیے بھی بہت مشکل ہے۔ سرمایہ کار عموماً دنوں کے بجائے برسوں کے حساب سے سوچتے ہیں اور اپنے پیسے کو بڑھنے کا وقت دیتے ہیں۔

  10. فون سے ادائیگی

    اب بہت سے لوگ نقد کے بجائے فون سے ادائیگی کرتے ہیں، موبائل والیٹ یا راست کے ذریعے۔ یہ بھی اصل پیسہ ہی ہے جو کھاتے سے جاتا ہے، اس لیے بھیجنے سے پہلے رقم اور نام ضرور دیکھیں، اور اپنا پن کبھی کسی کو نہ بتائیں۔

  11. کرپٹو کیا ہے؟

    کرپٹو، جیسے بٹ کوائن، ایسا ڈیجیٹل پیسہ ہے جو کوئی بینک یا حکومت جاری نہیں کرتی۔ اس کی قیمت ایک ہی دن میں بہت بڑھ یا بہت گر سکتی ہے، اس لیے یہ بہت پرخطر ہے۔ اس کا فیصلہ صرف بڑے کریں، اور صرف ایسے پیسوں سے جن کا نقصان وہ برداشت کر سکیں۔

  12. دھوکے کی پہچان

    جب کوئی "یقینی" یا "بغیر خطرے" کے بڑے منافع کا وعدہ کرے تو محتاط رہیں: اصل سرمایہ کاری میں ہمیشہ کچھ خطرہ ہوتا ہے۔ کبھی اپنا پاس ورڈ یا فون پر آنے والا کوڈ کسی کو نہ بتائیں، اور کسی بھی چیز کے لیے سائن اپ کرنے سے پہلے والدین سے ضرور پوچھیں۔

گھر پر آزمائیں

  • تین برتن

    تین برتنوں پر خرچ، بچت اور بانٹنا لکھیں۔ جب بھی بچے کو جیب خرچ یا عیدی ملے، وہ اسے تینوں میں بانٹے۔ حصے مل کر طے کریں، مثلاً آدھا خرچ کے لیے، ایک تہائی بچت کے لیے اور باقی بانٹنے کے لیے۔

    کیا سکھاتا ہے: خرچ سے پہلے پیسے کی منصوبہ بندی۔

  • بچت کے ہدف کا چارٹ

    کوئی ایسی چیز چنیں جو بچہ چاہتا ہو اور اس کی قیمت معلوم کریں۔ کاغذ پر تھرمامیٹر بنائیں جس میں ہر 100 روپے کی ایک لکیر ہو۔ ہر 100 روپے بچانے پر بچہ ایک لکیر میں رنگ بھرے، یہاں تک کہ اوپر پہنچ جائے۔

    کیا سکھاتا ہے: صبر، اور یہ کہ ہدف قدم بہ قدم پورا ہوتا ہے۔

  • ضرورت یا خواہش؟

    دکانوں کے اشتہارات سے تصویریں کاٹیں یا پرچیوں پر چیزیں لکھیں: چاول، کھلونا گاڑی، جوتے، چاکلیٹ، اسکول بیگ۔ بچہ انہیں ضرورت اور خواہش کے دو ڈھیروں میں بانٹے اور ہر انتخاب کی وجہ بتائے۔

    کیا سکھاتا ہے: فرق پہچاننا، اور یہ کہ کچھ چیزیں دونوں ہو سکتی ہیں۔

  • قیمت کا جاسوس

    دکان جاتے ہوئے بچے سے کہیں کہ ایک ہی چیز کے دو سائز یا دو برانڈز کا موازنہ کرے۔ مل کر فی 100 گرام قیمت نکالیں اور طے کریں کہ کون سی زیادہ فائدے مند ہے، اور کیا سستی چیز واقعی اتنی ہی اچھی ہے۔

    کیا سکھاتا ہے: خریدنے سے پہلے موازنہ کرنا۔

  • بجٹ میں کھانے کی منصوبہ بندی

    بچے کو ایک مقررہ رقم دیں، جیسے 2,000 روپے، تاکہ وہ گھر کے ایک وقت کے کھانے کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ خریداری کی فہرست بنائے، قیمتیں دیکھے اور رقم کے اندر لانے تک ردوبدل کرے۔ اگر پیسے بچ جائیں تو وہ طے کرے کہ ان کا کیا کرنا ہے۔

    کیا سکھاتا ہے: اصل قیمتوں اور اصل انتخاب کے ساتھ بجٹ بنانا۔

  • دھوکا پہچانیں

    بچے کو چند اصل پیغامات دکھائیں: ایسا انعام جس کے لیے آپ نے کبھی حصہ نہیں لیا، فون پر آئے کوڈ کی درخواست، پیسے دگنے کرنے کا وعدہ۔ پوچھیں کہ ہر ایک میں کیا غلط لگتا ہے۔ گھر کا اصول طے کریں: کبھی کوڈ یا پاس ورڈ نہ بتائیں، اور ہمیشہ پہلے کسی بڑے سے پوچھیں۔

    کیا سکھاتا ہے: آن لائن پیسوں کے معاملے میں محفوظ رہنا۔

والدین اور اساتذہ کے لیے

یہاں سب کچھ سیکھنے کے لیے ہے۔ گیم میں صرف فرضی پیسہ استعمال ہوتا ہے: نہ کوئی اصلی ٹریڈنگ ہوتی ہے اور نہ کوئی ادائیگی۔ بچے کے سائن اپ کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ گیم کون سی معلومات مانگتی ہے۔ یہ مل کر کھیلنے میں سب سے بہتر ہے: چند ٹریڈز کریں، پھر بات کریں کہ قیمتیں کیوں بدلیں۔

ہمارے اسباق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قومی مالیاتی خواندگی پروگرام، ایس ای سی پی کے جماپونجی، او ای سی ڈی کے گلوبل منی ویک، افلاطون، نیکسٹ جن پرسنل فنانس اور خان اکیڈمی سے ماخوذ ہیں۔