فیڈرل ریزرو کے اجلاس سے قبل اے آئی پر شکوک کے باعث ڈاؤ 600 پوائنٹس گر کر بند
امریکی حصص زوردار کمی کے ساتھ بند ہوئے، ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سیشن کے اختتام پر تقریباً 600 پوائنٹس نیچے رہا، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی قدر بندی پر شکوک نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر دباؤ جاری رکھا اور سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس سے قبل اپنی پوزیشنز سنبھال لیں۔
یہ کمی اس بے چینی کا عکاس ہے جو مصنوعی ذہانت کی بدولت چلنے والی اس تیزی کے بارے میں ہے جس نے امریکی حصص کو طاقت دی، اور سرمایہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے موجود آمدنی اور اخراجات موجودہ قدر بندی کا جواز پیش کرتے ہیں یا نہیں۔ فروخت وسیع پیمانے پر رہی، تاہم ماخذ مواد میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے شعبے یا کون سے انفرادی حصص اس رجحان میں پیش پیش رہے۔
اب توجہ فیڈرل ریزرو کے اجلاس کی طرف مبذول ہو گئی ہے، جہاں پالیسی ساز سود کی شرح کا راستہ طے کریں گے۔ مارکیٹیں عام طور پر ایسے فیصلوں سے قبل احتیاط سے کاروبار کرتی ہیں، اور مصنوعی ذہانت پر شکوک اور شرح سود کی غیر یقینی صورتحال کے امتزاج نے بظاہر سرمایہ کاروں کو خطرے کی نمائش کم کرنے پر آمادہ کیا۔
ماخذ مواد میں ڈاؤ کی اختتامی سطح، دیگر انڈیکسز میں کمی کی مقدار، یا مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات کے مخصوص محرکات نہیں دیے گئے۔ اس میں یہ بھی اشارہ نہیں کیا گیا کہ فیڈ سے کیا اقدام، اگر کوئی ہے، متوقع ہے۔

