حساسیت کے ساتھ کاروبار کے باعث ہفتہ اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا، کے ایس ای-100 میں 669 پوائنٹس کی کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تجارتی ہفتہ کم سطح پر ختم کیا، اور ایکسچینج کی ہفتہ وار مارکیٹ رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 669 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور یہ 166,419 پر بند ہوا۔ انڈیکس نے پانچ سیشنز کے دوران 2,927 پوائنٹس کی وسیع رینج میں کاروبار کیا، جس میں اس کی بلند ترین سطح 166,988 اور کم ترین سطح 164,060 رہی۔
قیمتوں میں کمی کے باوجود کاروبار میں تیزی برقرار رہی: ہفتے کے دوران تقریباً 2.15 ارب حصص کا لین دین ہوا، جن کی مالیت اناسی ارب روپے تھی۔ اہم تجارتی شعبوں میں مسلسل فروخت نے کسی بھی مستحکم بحالی کو روکے رکھا، اور رپورٹ میں نقل کیے گئے ماہرین نے اس احتیاط کی وجہ وسیع تر معاشی غیر یقینی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی کو قرار دیا۔
پانچ دنوں کے دوران مارکیٹ کیپٹلائزیشن اناسی ارب روپے کم ہو کر حتمی بندش پر 18,479 ارب روپے پر آ گئی۔ رپورٹ میں نقل کیے گئے حکمت عملی سازوں نے کہا کہ مسلسل تیزی کے بعد وقفے وقفے سے اصلاحات عام بات ہیں، اور مزید کہا کہ ادارے سمت کے تعین کے لیے معاشی اشاریوں اور کارپوریٹ آمدنی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آئندہ کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ آنے والے سیشنز کا انحصار بلیو چپ کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر کے استحکام اور مستقل معاشی پالیسی پر ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ منافع تقسیم کرنے والے شعبوں میں ادارہ جاتی خریداری مارکیٹ کو مستحکم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ خرد سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے دوران متوازن پورٹ فولیو رکھیں۔ اسٹاک بروکرز توقع کرتے ہیں کہ واضح ادارہ جاتی خریداری سامنے آنے تک کاروبار محدود رینج میں جاری رہے گا۔
اس ہفتے کی حرکت معمول کی انڈیکس اپ ڈیٹ ہے، مارکیٹ کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں، تاہم یہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ آمدنی کی پیشگی وضاحت اور ذخائر کا استحکام ہی ایکسچینج پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کے اہم عوامل ہیں۔


