پٹرول 393.64 روپے فی لیٹر تک بڑھ گیا جبکہ ڈیزل 397.76 روپے پر گر گیا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتوں میں نظرثانی کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر کا اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.88 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے، نئی قیمتیں 6 اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔ پٹرول اب 392.76 روپے سے بڑھ کر 393.64 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 399.64 روپے سے کم ہو کر 397.76 روپے پر آ گیا ہے۔
اس اضافے نے اکتوبر کے آغاز سے جاری اضافے کے سلسلے کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یکم اکتوبر کو پٹرول کی قیمت 387.40 روپے فی لیٹر تھی، 2 اکتوبر کو بڑھ کر 390.66 روپے ہو گئی، 3 اکتوبر سے 2.10 روپے کے اضافے کے بعد 392.76 روپے کر دی گئی، اور 5 اکتوبر تک اسی سطح پر برقرار رہی۔ نئی قیمت 393.64 روپے یکم اکتوبر کی قیمت سے 6.24 روپے فی لیٹر زیادہ ہے، تاہم اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ دس دنوں میں قیمتیں دونوں سمتوں میں حرکت کرتی رہیں۔
ڈیزل کی قیمت اس کے برعکس حرکت کر گئی۔ 1.88 روپے کی کمی صارفین اور ان شعبوں کے لیے کچھ راحت لے کر آئی ہے جو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جن میں تجارتی ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور زراعت شامل ہیں۔ اس راحت کا کتنا حصہ صارفین تک پہنچے گا یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کمی کو ٹرانسپورٹیشن اور دیگر آپریٹنگ اخراجات میں کس حد تک منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ نظرثانی بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے ساتھ پیش کردہ مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 89.89 ڈالر فی بیرل پر تھا، جو 1.22 ڈالر یا 1.34 فیصد کم ہے، اور برینٹ کروڈ 100.64 ڈالر فی بیرل پر تھا، جو 1.61 ڈالر یا 1.57 فیصد کم ہے۔ حکومت نے بین الاقوامی پیٹرولیم منڈیوں میں حرکت کے جواب میں گھریلو قیمتوں میں بار بار ردوبدل کیا ہے۔
