بٹ کوائن، کوسپی اور ناسداک فیوچرز میں تیزی، چین کی جی ڈی پی توقعات سے بہتر
پیر کے روز بٹ کوائن تقریباً 82,500 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو یو ٹی سی کے مطابق آدھی رات سے 0.7 فیصد اور 24 گھنٹوں میں 1.3 فیصد زیادہ ہے، کیونکہ چین کے معاشی اعداد و شمار توقعات سے مضبوط آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے زیادہ خطرے والے اثاثوں کی طرف واپسی کی۔
یہ اضافہ صرف کرپٹو تک محدود نہیں رہا۔ ناسداک فیوچرز میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جاپان کے نکئی میں 1.8 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.6 فیصد تیزی آئی، جس سے گزشتہ ہفتے کے کچھ نقصانات کی تلافی ہوئی جو مصنوعی ذہانت سے منسلک حصص کی قیادت میں ہوئے تھے۔ چینی حصص 0.3 فیصد بڑھے۔ سونا 4,180 ڈالر کے قریب تقریباً بغیر تبدیلی کے رہا اور ڈالر انڈیکس جمعہ کی کم ترین سطح کے قریب 102 سے نیچے برقرار رہا۔
چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے بتایا کہ تیسری سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار سال بہ سال 4.5 فیصد بڑھی، جو دوسری سہ ماہی کی 4.3 فیصد رفتار سے تیز ہے۔ صارفین کے سامان کی خوردہ فروخت 1.1 فیصد بڑھی، جو متوقع 0.5 فیصد اضافے سے دوگنی سے زیادہ ہے اور گزشتہ ماہ کے 0.4 فیصد سے زیادہ ہے۔ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور صنعتی اشیاء کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے وہاں کے مضبوط اعداد و شمار عام طور پر تمام منڈیوں میں خطرے کی قبولیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر تیل کی قیمتیں گر گئیں، جس سے گزشتہ ہفتے کے کچھ اضافے معکوس ہوئے۔ رائٹرز نے اس کمی کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روس سے متعلق چھوٹ سے رسد بڑھنے کی توقعات کو قرار دیا، تاہم مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی خطرات برقرار ہیں۔ خام تیل میں مسلسل کمی افراط زر کے خدشات کو کم کر سکتی ہے اور فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود میں کمی کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ مرکزی بینک اس ماہ اپنی بینچ مارک شرح سود 4.75 فیصد سے 5 فیصد کی حد میں برقرار رکھے گا، جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا۔
ماخذ مواد میں یہ تبصرہ بھی نقل کیا گیا کہ متنوع حقیقی دنیا کے اثاثوں والے اسٹیبل کوائنز حقیقی کریڈٹ سے 5-7 فیصد پیداوار برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ کرپٹو فنڈنگ تقریباً 4 فیصد تک سکڑ رہی ہے، اور GENIUS فریم ورک پیداوار کو آن چین سے ہٹا رہا ہے جبکہ قابل رسائی مارکیٹ تین سالوں میں 4 ارب ڈالر تک بڑھ رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار بطور دعوے پیش کیے گئے اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
